Showing posts with label Islamic Sms. Show all posts
Showing posts with label Islamic Sms. Show all posts

Thursday, 18 December 2014

Aik admi ka oonth(camel) raat ko bohut rota tha,

Aik admi ka oonth(camel) raat ko bohut rota tha,
Wo admi Hazrat Muhammad (S.A.W.W) k pas aya or sara haal btaya,
Ap (S.A.W.W) ne oonth se rone ki waja pochi to oonth ne kaha k ye admi raat ko isha ki namaz nae parhta hai to raat ko is k bistar k neechay ag ko dekh kar main rota hon.

Jab tum namaz k liye khare hote ho

(Namaz ki shan)

Jab tum namaz k liye khare hote ho to sir se aasman tak rehmat-e-lahi ghata ban k cha jati hai,
Farishtey tere chehrey ki taraf jama ho jate hain,
Ek Farishta pukarta hai k Ay Namazi agar tu dekh ly k tere samney kon hai aur tu kis se baat kar raha hai to "Allah" ki qasam tu qayamat tak salam na phere.

Please Namaz ki pabandi kijiye 

Agar ap ksi bemari se bchna chahty hain

1. Agar ap ksi bemari se bchna chahty hain,
Tou sura-e-fathiha mein har bemari ki shifa hai

2. Agar ap ki murad puri nahi hoti, 
Tou rozana sura-e-yaseen ki tilawat kren.

3. Agar rizq mein brkat chaye,
Tou rozana sur-e-waqeya parhen.

4. Agar ap ko qabr k azab ka dar hay,
Tou rozana raat ko sura-e-mulk parhen.

5. Agar dunya k har jagray se nijat hasil karni hay,
tou Quran ki tilawat ko apni adat bna lein!

Frwrd this msg

Monday, 24 November 2014

Imam Hussain (A.S) and ayah 173 of Surah-'Al-i-'Imran


Imam Hussain (A.S) ayah 173 of Surah-'Al-i-'Imran

173. " Those to whom the people said: ' Verily the men have gathered against you, therefore fear them '. Yet it increased them in faith and they said: ' Allah is sufficient for us and how excellent is such a Protector! ' "
In the name of Allah to whom all the glory belongs and to whom is our return.
The above mentioned ayah is clear where Allah ask the righteous people to stand against oppression and unjust even if they out number you and propagate falsehood, be aware that Allah is the best disposer of affairs, How beautifully this ayah was demonstrated practically by Imam Hussain (A.S) the grandson of prophet Mohammed (Peace Be upon Him) when he sacrificed everything he had in the way of Allah even though he was outnumbered by the forces of unjust, Tyrant Yazid ibne Muawiya(May Allah’s curse be upon Yazid).Please watch the video, And ponder don’t we need to stand without fear against all the unjust, Tyrants and oppressors of the world even if they outnumber us- As Allah is sufficient for us-The best Disposer of Affairs.

Sunday, 23 November 2014

ہم جس جگہ بھی رہتے ہیں ہماری یہ دلی خواہش ہوتی ہے


ہم جس جگہ بھی رہتے ہیں ہماری یہ دلی خواہش ہوتی ہے



ہم جس جگہ بھی رہتے ہیں ہماری یہ دلی خواہش ہوتی ہے کہ ہ جگہ بڑی صاف ہو - اچھی اور خوبصورت ہو -
تو میری یہ آرزو ہے اور یہ آرزو چند ماہ سے بڑی شدت اختیار کر گئی ہے - 
کہ جب کبھی نماز پڑھنے کا موقع ملتا ہے اور الله تعالیٰ کو اپنے گھر بلانے کا موقع ملتا ہے اور پھر جس جگہ میں اسے بلاتا ہوں وہ میرے دل کا گوشہ ہے ، وہ نہایت تاریک ، بدبودار ، سڑا ہوا ہے -
اس میں ہر قسم کی گندگیاں اور کثافتیں بھری پڑی ہیں - اور ہر قسم کی غلاظت وہاں موجود ہے -
میں کسی ایسے Detergent کی تلاش میں ہوں جو کہ میرے دل کے اندر ویسی صفائی کر دے جیسی صفائی مجھے ان اشتہاروں میں نظر آتی ہے اور میں خوش ہوتا ہوں -
ہم باہر کی یا بدنی صفائی کی طرف متوجہ ہیں -
لیکن میں جانتا ہوں کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کے دل نہایت پاک و صاف اور پاکیزہ خوشبودار اور وسعت پذیر ہیں -
ان میں الله تعالیٰ کو آتے ہوئے واقعی کوئی ججھک محسوس نہیں ہوتی -
الله تعالیٰ بڑے رحیم و کریم ہیں -
وہ جیسی کسی بھی جگہ ہو کوئی بلائے تو وہاں تشریف لے آتے ہیں -
انھوں نے کبھی اعتراض نہیں کیا -
لیکن ہم نے اور خاص طور پر میں نے اس بات کا نوٹس نہیں لیا اور کبھی اس بابت پروگرام نہیں بنایا کہ اس جگہ کی صفائی ستھرائی کے بارے میں سوچا جائے ، اور اس پر عمل کیا جائے -
ہم نے کبھی ایسی کوشش کی ہی نہیں -
ہم گھاس پھوس، ٹوٹے زینوں ، بکھرے برتنوں ، ٹوٹے اور پچکے ہوئے کنستروں ، ادھڑی چارپائیوں ، صندوقوں ، نفرتوں تکالیف ، کدورت ، گھمنڈ ، اور اناؤں سے بھرے گھر کو محبّت پیار اور عاجزی کی چاشنی سے اور خوشبو سے مہکا دیں - 
ہم سے ایسا ہوتا نہیں ہے -

ﺍﮔﺮ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﮐﮧ ﻟﻮﮒ ﺗﺠﮭﮯ ﺑﮩﺖ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﺒﺖ


ﺍﮔﺮ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﮐﮧ ﻟﻮﮒ ﺗﺠﮭﮯ ﺑﮩﺖ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ  



ﺍﮔﺮ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﮐﮧ ﻟﻮﮒ ﺗﺠﮭﮯ ﺑﮩﺖ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﺒﺖ
ﺳﮯ ﻣﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺟﺎﻥ ﻟﮯ ﯾﮧ ﺗﯿﺮﯼ ﺍﻥ ﺧﻮﺑﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﻟﻠﮧ
ﻧﮯ ﺗﺠﮫ ﻣﯿﮟ ﻋﯿﺎﮞ ﮐﺮ ﺩﯼ ﮨﯿﮟ
ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮒ ﺗﯿﺮﯼ ﺍﻥ ﻗﺒﯿﺢ ﺣﺮﮐﺘﻮﮞ ، ﺑﺮﺍﺋﯿﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﺪﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﻧﮩﯿﮟ
ﭘﺎﺗﮯ ﺟﻦ ﭘﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﭘﺮﺩﮮ ﮈﺍﻝ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﯿﮟ
ﺗﻮ ﺑﺲ ﭘﮭﺮ ﺷﮑﺮ ﮐﯿﺎ ﮐﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﮐﮍﺍ ﻧﮧ ﮐﺮ

یقینا تم صرف اُسی شخص کو خبر دار کر سکتے ہو


’’یقینا تم صرف اُسی شخص کو خبر دار کر سکتے ہو جو نصیحت کی پیروی کرے اور رحمٰن سے بن دیکھے ڈرے۔پھر اُسے مغفرت اور باعزت اجر کی بشارت دے دو‘‘
سورہ یس : 11

میں نے تجھ سے عشق کیا دو طرح سے


میں نے تجھ سے عشق کیا دو طرح سے،

ایک عشق جس میں خود غرضی شامل ہے، اور دوسرا جس کے تُو قابل ہے،
جس عشق میں میری خود غرضی شامل ہے اُس میں میں نے خود کو قید کر لیا تیرے ساتھ، تاکہ کوئی اور وجود باقی نہ رہے۔۔۔۔
جس عشق کے تُو قابل ہے اس میں تُو حجاب نہیں اُٹھاتا کہ میں تیرا دیدار کر سکوں۔۔۔۔
اگرچہ اس میں یا اُس میں دونوں میں میرا کمال نہیں، لیکن اس میں یا اُس میں دونوں میں تعریف صرف تیرے لئے ہے۔۔۔۔۔۔
♡
♡
حضرت رابعہ بصری رحمتہ اللہ علیہا.

ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوگئے


ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوگئے


ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوگئے اور بیماری کی شدت کی وجہ سے بستر پر سو رہے تھے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ عیادت کے لیے حاضرخدمت ہوئے اور آپ کو بستر مرض پر پڑے دیکھ کر انتہائی غمگین ہوگئے۔
جب واپس اپنے گھر گئے تو غم کی شدت کی وجہ سے بیمار پڑ گئے اور صاحب فراش ہوگئے ۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شفایاب ہوئے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ اقدس پر نظر پڑتے ہی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا چہرہ خوشی سے دمکنے لگا اور انہوں نے دو شعر کہے ،،
میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو میں نے انکی عیادت کی ، پھر میں انکے غم میں بیمار ہوگیا ، جب میرے حبیب شفا یاب ہوگئے تو وہ میری عیادت کو آئے اور انکے چہرے پر نظر پڑتے ہی میں بھی شفا یاب ہوگیا ..
یہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کمال محبت کا ایک نمونہ تھا ۔ اللہ ہمیں بھی جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسی طرح کی سچی محبت نصیب فرمائے .. آمین
( من وصایا الرسول 396/2 )

سب سے بڑی مصیبت


سب سے بڑی مصیبت:

≈≈≈≈≈≈≈≈≈≈≈
آج کے دور کی سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ گناہوں سے سو فیصد توبہ نہیں کرتے، الّا ما شاء اللہ، پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں، قدسی روحیں بھی موجود ہیں۔
لیکن فرض کریں کہ اگر تمام گناہوں کی تعداد سو ہے تو آج کوئی پچاس فیصد گناہوں سے بچ رہا ہے، کوئی ساٹھ فیصد بچ رہا ہے، کوئی ستّر فیصد بچ رہا ہے، کوئی اسّی فیصد بچ رہا ہے، دیندار کہلانے والے نوے فیصد بچ رہے ہیں، اور اس سے اوپر جو ذکر اذکار کی محنت کرنے والے ہیں وہ بھی نوے اور پچانوے فیصد بچ رہے ہیں۔
آخری پانچ فیصد گناہوں میں نفس کہیں نہ کہیں دھوکا دے جاتا ہے۔
کسی کی آنکھ قابو میں نہیں، کسی کی زبان قابو میں نہیں، کسی نے دل کو کسی ارمان میں پھنسا رکھا ہے اور کسی نے اپنے آپ کو کسی کاروبار میں الجھا رکھا ہے۔
کوئی نہ کوئی ایسا گناہ سرزد ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے بندہ اللہ رب العزت سے دور ہو جاتا ہے۔
﴿خطباتِ فقیر، ج: ۶، ص: ۲۲﴾

اخبار میں ایک اشتہار دیکھ رھا تھا


اخبار میں ایک اشتہار دیکھ رھا تھا..
"ھم اپنے بیٹے کو بوجہ نافرمانی' گستاخی' بدچلنی و آوارہ گردی اپنی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد سے عاق کرتے ھیں.. ھم اس کے کسی نفع نقصان کے ذمہ دار نہیں ھونگے.. ھم سے اس کا کوئی تعلق نہیں ھوگا.. "
میرا اللہ کتنا اچھا ھے_________!!
میں بدچلن ھوں' آوارہ ھوں' گستاخ ھوں' نافرمان ھوں لیکن میرا اللہ کبھی مجھے اپنی نعمتوں سے عاق نہیں کرتا' مجھ سے قطع تعلقی کا اشتہار نہیں نکالتا' میری روٹی روزی سے غافل نہیں ھوتا' لوگوں کو بتا کر مجھے ذلیل و رسوا نہیں کرتا.. خاموشی سے دروازہ کھلا چھوڑ کر میرے لوٹنے کا دن رات انتظار کرتا ھے..
میرا اللہ کتنا اچھا ھے_________!!
اور جب کبھی اپنی شامت اعمال کے نتیجے میں کسی تکلیف میں مبتلا ھو کر اسے پکارتا ھوں تو میری سن کر مجھے ڈھارس بھی دیتا ھے اور اس تکلیف سے مجھے نکالنے کی سبیل بھی کرتا ھے جس میں خود اپنی غلطی سے پھنس جاتا ھوں.. پھر کبھی کسی رات پشیمانی سے مجبور ھوکر آنسو بہاتے ھوئے اس سے شرمسار ھوتا ھوں تو وہ ماں سے بھی زیادہ تڑپ کے ساتھ اپنی آغوش رحمت میں لے لیتا ھے..
میرا اللہ کتنا اچھا ھے_________!!

معافی اور درگزر ________!!


معافی اور درگزر ________!!


یہ ایک پھول کی مانند ہیں۔ اس کے باعث انسان ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں اور یہ "معافی" انسانوں کے مابین Connectivity کا کام دیتی ہے۔
جو لوگ معافی مانگنے سے محروم ہو جاتے ہیں وہ انسان کے درمیان رابطے اور تعلق کے پل کو توڑ دیتے ہیں اور ایک وقت ایسا ضرور آتا ہے کہ ان کو خود کسی وجہ سے آدمیوں اور انسانوں کے پاس جانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے لیکن وہ پل ٹوٹا ہوا ہوتا ہے۔
اگر ہم ایک انسان سے کوئی زیادتی کرتے ہیں یا انسان کا کوئی گناہ کرتے ہیں اور پھر وہ انسان خدانخواستہ فوت ہو جاتا ہے یا برطانیہ یا کینیڈا جا کر آباد ہو جاتا ہے تو پھر ہمیں اس انسان کے پاس جا کر معافی مانگنے میں بڑی مشکل درپیش ہوتی ہے لیکن اگر ہم خدا کے گناہگار ہوں اور ہمارا ضمیر اور دل ہمیں کہے کہ "یار تو نے یہ بہت بڑا گناہ کیا تجھے اپنے رب سے معافی مانگنی چاہیے"۔ تو اس صورت میں سب سے بڑی آسانی یہ ہوتی ہے کہ ہمیں اپنے خدا کو کہیں جا کر ڈھونڈنا نہیں پڑتا، تلاش نہیں کرنا پڑتا کیونکہ وہ تو ہر جگہ موجود ہے ۔
اس لئے ہمارے بابے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہمارے بابا جی اکثر و بیشتر یہ کہا کرتے تھے کہ، "انسان کے معاملے میں بہت احتیاط کیا کرو اور کوئی ایسا گناہ یا غلطی کی سرزدگی سے بچا کرو جو انسان سے متعلق ہو، کیونکہ انسان سے کیے گناہ یا ظلم کی معافی اس سے ملے گی۔ اگر تم سے خدا کا گناہ ہوجاتا ہے تو یہ اور بات ہے وہ رحیم و کریم ہے اور ہر جگہ موجود ہے، اس سے معافی کسی بھی وقت مانگی جا سکتی ہے )موت سے پہلے(۔ اگر وہ انسان کھو گیا تو مارے جاؤ گے _

ہم نماز پرھتے ہیں، روزے بھی رکھتے ہیں

ہم نماز پرھتے ہیں، روزے بھی رکھتے ہیں



ہم نماز پرھتے ہیں، روزے بھی رکھتے ہیں ۔۔زکوة بھی دیتے ہیں۔۔۔ کئی تو بار بار حج بھی کرتے ہیں۔۔مگر جانے کیوں ہمارے دل سخت رہتے ہیں۔۔ زندگیاں سکون سے خالی ہوتی ہیں۔۔۔ مال و اولاد میں برکت نہیں ہوتی۔۔۔ شاید اس کی وجہ یہ تو نہیں ہم عبادات کو رئیچول یا رسوم سمجھ کر کرتے ہیں۔۔۔ کتابوں پر کتابیں کھنگال ڈالتے ہیں لیکن روح اسلامی سے بے بہرہ رہتے ہیں

بہت دیر کر دی



بہت دیر کر دی ______________!!!

جب بھی اسے کوئی نماز پڑھنے کی تلقین کرتا تو وہ یہی کہتا۔ ملازمت سے سبکدوش ہونے دو۔ پھر داڑھی رکھ کر ایک مسجد کا کونا سنبھال لوں گا۔ ملازمت سے سبکدوش ہوا تو اس نے بچوں کے لئے ایک عالیشان مکان بنانے کا ارادہ کیا تقریباً ایک سال کا عرصہ اپنی مرضی کے بام و در بنانے میں گزر گیا۔
آج مکان کا افتتاح تھا۔ برقی قمقموں سے عالیشان عمارت جگمگا رہی تھی۔ اس کے قدم سجدہ شکر کے لئے مسجد کی جانب چل پڑے۔ اس نے اب طے کر لیا تھا کہ وہ کل سے اپنا زیادہ تر وقت مسجد میں گزارے گا اور ا ﷲ تعالیٰ کی عبادت کرے گا۔ ابھی وہ مسجد کی سیٹرھیاں چڑھ ہی رہا تھا کہ اس کی حرکت قلب بند ہو گئی اور مسجد کے باہر ہی اس کی روح پرواز کر گئی!!